: پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال سفارتی اور ثالثی کردار ادا کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے امریکہ، ایران، خلیجی ممالک اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
انہوں نے امریکی وار کالج کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران عالمی امن، معیشت، توانائی کی سلامتی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں کسی بھی طویل رکاوٹ سے عالمی تیل و گیس سپلائی، بحری تجارت اور معاشی استحکام شدید متاثر ہو سکتا ہے۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کو فروغ دینے اور امن کے لیے سفارتی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد امریکہ، ایران، خلیجی ممالک، مصر، چین، ترکیہ اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ تنازع مزید نہ بڑھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی متوازن اور اصولی خارجہ پالیسی نے اسے تمام اہم فریقین کا اعتماد حاصل کرنے میں مدد دی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رکنیت بھی پاکستان کو امن کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ خلیجی خطے میں امن پاکستان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ پاکستان کے ان ممالک کے ساتھ معاشی، توانائی، سیکیورٹی اور عوامی روابط گہرے ہیں، جہاں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں۔
انہوں نے اسلاموفوبیا کے حوالے سے بھی پاکستان کے مؤقف کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی آزادی بنیادی انسانی حق ہے اور اقوام متحدہ میں اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی سطح پر اقدامات کے لیے پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ مستقبل کے کسی بھی علاقائی سیکیورٹی نظام کو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، خودمختاری کے احترام اور تمام ممالک کے مساوی تحفظ کے اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے۔