29°C Sunny

گوادر پولیس کی انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی، تین ملزمان گرفتار – عمان غیر قانونی منتقلی کیلئے تیار 13 افراد بازیاب

گوادر پولیس نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مبینہ بین الاقوامی اسمگلنگ گروہ کے تین ارکان کو گرفتار کر لیا جبکہ 13 افراد کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔ پولیس کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر گوادر کے نیو ٹاؤن فیز ون کے علاقے میں ایک بنگلے پر کی گئی۔

حکام کے مطابق پولیس ٹیم نے اطلاع ملنے پر مذکورہ رہائش گاہ پر چھاپہ مارا، جہاں تلاشی کے دوران پنجاب سے تعلق رکھنے والے 13 غیر قانونی تارکین وطن کو چھپے ہوئے پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ان افراد کو غیر قانونی طریقے سے عمان منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔

پولیس نے کارروائی کے دوران تین مشتبہ ملزمان نادر شاہ، عبدالمجید اور ظہیر الدین شاہ کو گرفتار کیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد مبینہ طور پر بین الاقوامی انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک سے وابستہ ہیں۔ کارروائی میں اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والی پانچ ٹویوٹا کرولا گاڑیاں بھی قبضے میں لی گئیں۔

بازیاب کیے گئے افراد کو حفاظتی تحویل میں منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق تحقیقات کا دائرہ بڑھایا جا رہا ہے تاکہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث دیگر سہولت کاروں اور نیٹ ورک کے افراد تک پہنچا جا سکے۔

گوادر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) عطاالرحمان خان ترین نے کہا کہ پولیس انسانی اسمگلنگ اور دیگر جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے انسانی اسمگلنگ کو سنگین جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

سب ڈویژنل پولیس افسر چاکر خان نے بتایا کہ گروہ کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائیاں جاری ہیں۔ پولیس کے مطابق بلوچستان میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف نگرانی اور کارروائیاں مزید تیز کی جا رہی ہیں تاکہ غیر قانونی نقل و حرکت اور شہریوں کے استحصال کو روکا جا سکے۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بلوچستان کے ساحلی علاقوں خصوصاً گوادر کو غیر قانونی بیرون ملک منتقلی کے راستوں کے حوالے سے اہم مقام سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نگرانی اور کریک ڈاؤن میں اضافہ کر رکھا ہے۔