32°C Storm

گوادر میں ایل این جی اور ریفائنری منصوبوں کی بحالی کے امکانات روشن

اسلام آباد/گوادر: پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ امن مذاکرات کے بعد گوادر میں توانائی کے بڑے منصوبوں کی بحالی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ 2009 میں طے پایا تھا جبکہ 2013 میں اس کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا گیا تھا، تاہم امریکی پابندیوں کے باعث یہ منصوبہ کئی سال سے تعطل کا شکار ہے۔

اسی دوران گوادر میں 4 لاکھ بیرل یومیہ صلاحیت کی بڑی آئل ریفائنری کے قیام اور ایل این جی منصوبوں پر بھی بات چیت ہوئی تھی، لیکن یہ منصوبے بھی عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔

اب تازہ پیش رفت کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے بعد پابندیوں میں نرمی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں، جس سے پاکستان اور ایران کے توانائی منصوبوں کی بحالی کی امید بڑھ گئی ہے۔

توانائی ماہرین کے مطابق گوادر اس پورے منصوبے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہاں ریفائنری اور ممکنہ ایل این جی انفراسٹرکچر خطے میں توانائی کی ترسیل کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گوادر کے ذریعے توانائی منصوبوں کی بحالی سے پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے اور درآمدی انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم ماہرین نے واضح کیا کہ منصوبوں کی عملی بحالی کا انحصار عالمی پابندیوں اور سیاسی پیش رفت پر ہوگا۔