کوئٹہ، بلوچستان، پاکستان میں بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے مالی بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے بیس ارب روپے سے زائد کی ریکوری کا آغاز کیا اور چھ ارب روپے سے زیادہ رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی۔ کمیٹی کے چیئرمین اصغر علی ترین نے بتایا کہ دو سو باون آڈٹ پیراز کے جائزے میں انچاس ارب روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔
حکام کے مطابق مسلسل اجلاسوں کے دوران بیس ارب روپے کی ریکوری کی نشاندہی کی گئی جن میں سے چھ ارب روپے سے زائد وصول کر لیے گئے ہیں، جسے صوبے میں حالیہ برسوں کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
کمیٹی کی سفارشات پر بیس مقدمات قومی احتساب بیورو جبکہ چھ کیسز محکمہ انسداد بدعنوانی کو مزید تحقیقات کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔ چیئرمین نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو ازخود نوٹس کے اختیارات بھی دے دیے گئے ہیں جس سے نگرانی کا نظام مزید مضبوط ہوگا۔
اجلاس میں ترقیاتی فنڈز کے بروقت استعمال پر زور دیتے ہوئے ہدایت دی گئی کہ پندرہ مئی تک رقوم خرچ کی جائیں تاکہ لاگت میں اضافے سے بچا جا سکے۔ حکام کے مطابق بلوچستان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور پیپر لیس بھی بنا دیا گیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے کمیٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اس اقدام سے احتسابی عمل پر عوامی اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔