بلوچستان اسمبلی نے صوبائی وزیر میر محمد صادق عمرانی کے 31 اگست کے اجلاس میں دیے گئے ریمارکس کے خلاف مشترکہ مذمتی قرارداد منظور کرلی اور مطالبہ کیا کہ ان ریمارکس کو سرکاری ریکارڈ سے حذف کیا جائے۔ قرارداد صوبائی وزیر میر علی مدد جتک نے پیش کی، جس کی حمایت وزرا ضیاء اللہ لانگو، نور محمد دمڑ اور بخت کاکڑ نے کی۔ ارکان اسمبلی برکت رند، اسفندیار کاکڑ، ہادیہ نواز اور فرح عظیم شاہ بھی قرارداد پیش کرنے والوں میں شامل تھے۔ ارکان نے صادق عمرانی کی تقریر میں استعمال کی گئی زبان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ریمارکس سے بلوچستان کے عوام کی دل آزاری ہوئی۔ اسمبلی اجلاس میں میر علی مدد جتک نے صادق عمرانی کے اس دعوے کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ بلوچستان سے 235 افراد کو اسلام آباد طلب کرکے تذلیل کا نشانہ بنایا گیا۔ میر علی مدد جتک نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس میں بلوچستان کے لوگوں کو احترام دیا گیا۔ انہوں نے صادق عمرانی کے بیانات میں تضاد کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ اسی جماعت نے انہیں پارلیمانی رہنما مقرر کیا ہے