پاکستان میں پاکستان اور یوریشیائی اقتصادی اتحاد کے درمیان ممکنہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے اہم ویڈیو کانفرنس منعقد ہوئی جس میں دونوں جانب سے ترجیحی تجارتی نظام کے امکانات کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات میں یوریشیائی اقتصادی کمیشن کے رکن اور تجارتی امور کے وزیر آندرے سلیپنیف اور وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے شرکت کی۔ گفتگو کے دوران دونوں فریقین نے ایک مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی گروپ تشکیل دینے پر اتفاق کیا جو ممکنہ معاہدے کے معاشی اثرات اور عملی پہلوؤں کا جائزہ لے گا۔
یوریشیائی اقتصادی اتحاد کے نمائندے نے کہا کہ وہ جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور پاکستان کو خطے میں ایک اہم اور امید افزا تجارتی شراکت دار سمجھتا ہے۔
وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان یوریشیائی اقتصادی اتحاد کے ساتھ تعلقات کو صرف تجارتی نہیں بلکہ ایک وسیع اسٹریٹجک شراکت داری کے طور پر دیکھتا ہے جس میں لاجسٹکس، توانائی تعاون، ڈیجیٹل تجارت، صنعتی تعاون اور سپلائی چین انضمام شامل ہے۔
دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور یوریشیائی اقتصادی اتحاد کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں اور اس سلسلے میں قانونی تقاضوں کے مطابق مشترکہ فزیبلٹی گروپ جلد اپنا کام شروع کرے گا۔