ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، باہمی تعاون اور مشترکہ علاقائی سکیورٹی نظام کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران خطے کے تمام ممالک کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے تاکہ امن، استحکام اور ترقی کے لیے ایک نئے سکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد رکھی جا سکے۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان امن کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اعتماد کا مظہر قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کے ایک روزہ سرکاری دورے کے دوران مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان اور ایران محض ہمسایہ ممالک نہیں بلکہ گہرے تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور عوامی رشتوں میں بندھے ہوئے برادر ممالک ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان موجود مثبت ماحول کو نئی جہت دیتے ہوئے باہمی تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں پائیدار امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی صرف باہمی احترام، دیانتدارانہ مذاکرات اور علاقائی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایران خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر ایک نئے سکیورٹی فریم ورک کی تشکیل کا خواہاں ہے۔
انہوں نے قطر، سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی قیادت نے ایران اور امریکا کے درمیان امن عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم دنیا کو اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے متحدہ محاذ قائم کرنا ہوگا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اور پاکستان اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون اسلامی دنیا کے لیے بھائی چارے، یکجہتی اور مشترکہ ترقی کی ایک کامیاب مثال بنے گا۔
انہوں نے پاکستان کی قیادت اور عوام کی میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود تاریخی اعتماد مستقبل میں مزید مضبوط شراکت داری کی بنیاد بنے گا۔
