پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری شروع کرتے ہوئے تمام نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے فنڈز کے اجرا اور ٹھیکیداروں کی واجب الادا ادائیگیاں فوری طور پر روک دی ہیں۔
جاری احکامات کے مطابق صوبے کے تمام محکموں، خودمختار اداروں، خصوصی میونسپل کارپوریشنز اور ضلعی کونسلز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر استعمال شدہ فنڈز واپس صوبائی خزانے میں جمع کرائیں۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ 30 جون تک صرف تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگیوں کی اجازت ہوگی، جبکہ دیگر تمام ادائیگیاں معطل رہیں گی۔
اس فیصلے پر ٹھیکیداروں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فنڈز کی بندش سے جاری ترقیاتی منصوبے متاثر ہوں گے اور کئی منصوبے نامکمل رہ سکتے ہیں۔
دوسری جانب محکمہ صحت، تعلیم، جنگلات اور دیگر اداروں کو آئندہ مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں کی تجاویز دو ہفتوں کے اندر جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق پہلے ہی ختم کی جا چکی تقریباً ڈیڑھ لاکھ مستقل اسامیوں کے لیے نئے بجٹ میں کوئی فنڈ مختص نہیں کیا جائے گا، جبکہ مزید ایک لاکھ سرکاری اسامیاں بھی مئی کے اختتام تک ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں ترقیاتی اخراجات میں نمایاں کٹوتیاں متوقع ہیں اور زیادہ تر فنڈز لاہور میں منظور شدہ بڑے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔
یہ اقدامات پنجاب حکومت کی جانب سے اخراجات پر سخت کنٹرول اور ترقیاتی ترجیحات کی نئی ترتیب کا حصہ قرار دیے جا رہے ہیں۔