واشنگٹن (GWADAR SPEAKS – ویب ڈیسک): امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری تنازع کو جلد ختم کرنے پر زور دے رہے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ یہ مسئلہ اگلے 4 سے 6 ہفتوں میں نمٹ جائے۔
صدر ٹرمپ کی حکمت عملی اور ترجیحات
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کو طویل نہیں کرنا چاہتے اور انہیں احساس ہے کہ تنازعہ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس مقصد کے لیے وائٹ ہاؤس نے مئی میں بیجنگ سمٹ کا شیڈول بھی اسی بنیاد پر رکھا ہے کہ اس سے پہلے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو جائے۔
تاہم صدر ٹرمپ کی توجہ بعض اوقات دیگر سیاسی امور جیسے وسط مدتی انتخابات اور امیگریشن اقدامات کی طرف بھی منتقل ہو جاتی ہے۔ قریبی مشیروں کے مطابق وہ مستقبل کے بڑے چیلنجز کی طرف بڑھنے کے لیے بے تاب دکھائی دیتے ہیں، اور بعض اتحادی امید کرتے ہیں کہ وہ کیوبا کی کمیونسٹ حکومت کے خاتمے پر بھی توجہ دیں گے۔
مذاکرات اور فوجی اقدامات
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا مزید مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بھی بڑھا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے تیل تک امریکی رسائی کو ممکنہ شرط کے طور پر زیر غور رکھا ہے، تاہم اس پر ابھی کوئی عملی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔
چیلنجز اور پیچیدگیاں
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ٹرمپ کے پاس جنگ ختم کرنے کا آسان راستہ موجود نہیں اور امن مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ اسی لیے یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ ٹرمپ تنازع کے سلسلے میں حتمی فیصلہ کب اور کیسے کریں گے۔ آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش اور معاہدے یا واضح فوجی فتح کے بغیر صورتحال پیچیدہ بنی ہوئی ہے۔