29°C Sunny

چین تعاون سے بلوچستان میں 100 مراکز پر صحت منصوبہ شروع

کوئٹہ: بلوچستان میں چین کے تعاون سے صحت کے شعبے میں ایک نیا منصوبہ باضابطہ طور پر شروع کر دیا گیا ہے جس کا مقصد صوبے کے سات اضلاع میں واقع 100 طبی مراکز میں ماں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بنیادی صحت مراکز کو اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ خواتین اور بچوں کو بہتر علاج، معیاری طبی سہولیات اور بروقت دیکھ بھال فراہم کی جا سکے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام بلوچستان میں صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کی رسائی بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس منصوبے کو پاکستان اور چین کے درمیان قریبی تعاون کی واضح مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اس تعاون پر چین کی حکومت کی شکر گزار ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کی دوستی اور ترقیاتی شراکت داری کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ منصوبے میں شامل اضلاع اور اس کے عملی نفاذ کے شیڈول سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم سرکاری بیان میں اسے ماں اور بچے کی صحت کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس پروگرام کا بنیادی مقصد منتخب مراکز میں طبی سہولیات کو بہتر بنانا اور عوام کو معیاری صحت خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ اقدام بلوچستان میں صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے صوبے میں صحت کے نظام کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Just In
27-04-2026
آئی ایم ایف نے پاکستان پر فیول سبسڈی ختم کرنے اور ٹیکس نیٹ وسیع کرنے پر زور دے دیا پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی مارکیٹ کے رجحانات کے مطابق نرخ روزانہ تبدیل ہو رہے ہیں ٹرمپ نے اسلام آباد میں آئندہ چند دنوں میں دوبارہ US–ایران مذاکرات کا اشارہ دے دیا ایس ای سی پی نے پنجاب اور بلوچستان کے لیے نئے پنشن فنڈز کی منظوری دے دی پاکستان کو مہنگائی کے نئے دباؤ کا سامنا، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ گوادر میں 10 ارب ڈالر آئل ریفائنری منصوبہ، سعودی عرب کی بڑی سرمایہ کاری متوقع آئی جی بلوچستان کا شہریوں اور پولیس کے درمیان تعاون مضبوط بنانے پر زور امریکہ اور ایران مذاکرات تین دن میں ممکن، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ گوادر، 14 اپریل (ویب ڈیسک): ضلعی انتظامیہ گوادر نے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی زیر صدارت ایک منفرد کھلی کچہری کا انعقاد کیا جس میں عوامی مسائل براہِ راست سنے گئے۔ تفصیلات کے مطابق کھلی کچہری میں شہریوں نے شہری سہولیات، صحت، تعلیم اور بنیادی انفراسٹرکچر سے متعلق شکایات اور مسائل پیش کیے۔ ڈپٹی کمشنر نے موقع پر متعدد مسائل کے فوری حل کے احکامات جاری کیے اور بعض معاملات پر ریلیف اقدامات کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام شہری و سماجی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ صدر آصف زرداری کی چین کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر جلد عملدرآمد کی ہدایت