کوئٹہ: یارجان بادینی کی سفری و تحقیقی کتاب ترکمانستان اور بلوچ شناخت کی مضبوطی میں بلوچ ثقافت، روایات اور وسطی ایشیا سمیت مختلف خطوں میں بلوچ برادریوں کی موجودگی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ کتاب میں بیان کیا گیا ہے کہ بلوچ قوم صرف پاکستان، ایران اور افغانستان تک محدود نہیں بلکہ تاریخی ہجرت، تجارت اور سیاسی تبدیلیوں کے باعث دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ مصنف نے خاص طور پر ترکمانستان اور دیگر خطوں میں موجود بلوچ کمیونٹیز کی ثقافتی زندگی کو اجاگر کیا ہے۔ کتاب میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مختلف سماجی و سیاسی ماحول کے باوجود بلوچ شناخت کے بنیادی عناصر جیسے زبانی روایات، روایتی لباس، سماجی ڈھانچہ اور مہمان نوازی آج بھی اپنی اصل شکل میں موجود ہیں۔ تاہم مصنف نے اس بات کو بھی واضح کیا ہے کہ جدید دور کے معاشی اور سماجی دباؤ اس شناخت کے تحفظ میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ کتاب کا اسلوب تحقیقی اور بیانیہ دونوں پہلوؤں کو ساتھ لے کر چلتا ہے جس سے قاری کو تاریخی اور ثقافتی بصیرت حاصل ہوتی ہے۔ پیش لفظ میں معروف بلوچ ادیب منیر احمد بادینی نے یارجان بادینی کے کام کو سراہتے ہوئے اسے ایک ایسے محقق سے تشبیہ دی ہے جو مسلسل جستجو اور دریافت کی فکر میں رہتا ہے۔ یہ کتاب بلوچ تاریخ اور شناخت کے تسلسل کو سمجھنے میں اہم علمی اضافہ قرار دی جا رہی ہے۔