اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مہنگی فیول سبسڈیز مرحلہ وار ختم کرے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے تاکہ مالیاتی استحکام یقینی بنایا جا سکے۔
آئی ایم ایف کی تازہ فِسکل مانیٹر رپورٹ 2026 کے مطابق پاکستان کا مالیاتی خسارہ رواں مالی سال اور اگلے سال کے لیے جی ڈی پی کے تقریباً 3.2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کو درمیانی مدت میں قرضوں کے بوجھ میں کمی لانے کے لیے آمدنی بڑھانے اور غیر ضروری اخراجات کم کرنے کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آمدنی کی سطح اپنی بلند ترین حد کے قریب پہنچ چکی ہے، جبکہ آئندہ برسوں میں اس میں استحکام مگر معمولی کمی کا امکان ہے۔ تاہم قرضوں کی سطح بدستور قانون میں مقرر حد سے زیادہ رہے گی، کیونکہ سرکاری اخراجات مسلسل بلند رہنے کی توقع ہے۔
آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ مالیاتی خسارہ بتدریج کم ہو کر 2028 تک 3 فیصد اور 2029 تک 2.8 فیصد تک آ سکتا ہے، تاہم بعد کے برسوں میں اس میں دوبارہ اضافہ بھی ممکن ہے۔