29°C Sunny

اسلام آباد اور راولپنڈی انتظامیہ نے سیکیورٹی پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے تمام داخلی و خارجی راستے کھول دیے اور پبلک، پرائیویٹ اور مال بردار ٹرانسپورٹ بحال کر دی۔ تاہم فیض آباد اور پیر ودھائی بس اڈے تاحکم ثانی بند رہیں گے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ غیر ملکی وفد کے متوقع دورے کی منسوخی کے بعد کیا گیا۔ ساتھ ہی مارگلہ ہلز کے ہائیکنگ ٹریلز، دامن کوہ اور لیک ویو پارک بھی دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مارکیٹیں رات آٹھ بجے جبکہ ریسٹورنٹس اور فوڈ پوائنٹس دس بجے تک کھلے رہیں گے، جبکہ ضروری خدمات کو ان اوقات سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کی انتظامیہ نے سیکیورٹی وجوہات پر پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے تمام اقسام کی پبلک، پرائیویٹ اور مال بردار ٹرانسپورٹ کے لیے بند راستے دوبارہ کھول دیے ہیں۔ یہ فیصلہ اس اطلاعات کے بعد سامنے آیا کہ امریکا کے مجوزہ وفد کا ایران مذاکرات کے لیے وفاقی دارالحکومت کا دورہ منسوخ ہو گیا ہے۔ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق شہر میں تمام بس اڈے دوبارہ کھول دیے گئے ہیں تاہم فیض آباد بس ٹرمینل تاحکم ثانی بند رہے گا۔ راولپنڈی انتظامیہ نے بھی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے شہری، تجارتی اور مال بردار ٹریفک کے لیے راستے بحال کر دیے ہیں تاہم پیر ودھائی بس ٹرمینل اگلے احکامات تک بند رہے گا۔ واضح رہے کہ 19 اپریل سے دونوں شہروں میں ٹرانسپورٹ معطلی جاری تھی جس دوران شہریوں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا رہا اور انتظامیہ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مختلف مقامات پر آمد و رفت محدود رکھی تھی۔ پابندیوں میں نرمی کے ساتھ اسلام آباد میں تفریحی مقامات کھول دیے گئے ہیں۔ مارگلہ ہلز کے ہائیکنگ ٹریلز اتوار سے عوام کے لیے کھول دیے جائیں گے جبکہ دامن کوہ اور لیک ویو پارک بحال کر دیے گئے ہیں۔ مزید برآں وفاقی حکومت کے کفایت شعاری پلان کے تحت کاروباری اوقات میں تبدیلی کی گئی ہے جس کے مطابق مارکیٹیں اور شاپنگ مالز آٹھ بجے بند ہوں گے جبکہ ریسٹورنٹس، تندور و فوڈ آؤٹ لیٹس دس بجے تک کھلے رہیں گے۔ ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز اجازت ہوگی۔ شادی ہالز دس بجے تک کام کریں گے جبکہ جم کلب، کھیل سہولیات بند ہوں گی۔ تاہم اسپتال، میڈیکل اسٹورز، پٹرول پمپس اور دودھ کی دکانیں سمیت ضروری خدمات کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد معمولات زندگی بحال کرنا، ٹریفک نظام بہتر بنانا اور شہریوں کو سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ طویل پابندیوں کے بعد روزمرہ سرگرمیاں معمول پر آ سکیں۔