اسلام آباد: حکومت پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث عالمی قیمتوں میں اضافے کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا ہے، جس سے عوام پر مہنگائی کا نیا بوجھ پڑ گیا۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق پیٹرول کی قیمت 42.7 فیصد اضافے کے بعد 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت 54.9 فیصد اضافے کے ساتھ 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر تھا، جبکہ محدود وسائل کے باعث عوام کو مکمل ریلیف دینا ممکن نہیں رہا۔
رپورٹس کے مطابق ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں توانائی کی سپلائی گزرتی ہے، جس کا براہ راست اثر پاکستان جیسے درآمدی ممالک پر پڑ رہا ہے۔
حکومت نے ایندھن کی بچت کیلئے متعدد اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں، جن میں سرکاری دفاتر کیلئے چار روزہ ورکنگ ہفتہ، تعلیمی اداروں کی تعطیلات میں اضافہ اور آن لائن کلاسز کا اجرا شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی توانائی قیمتیں نہ صرف مہنگائی میں اضافہ کریں گی بلکہ معیشت پر بھی دباؤ بڑھائیں گی، جبکہ عالمی مالیاتی ادارے پہلے ہی کمزور معیشتوں کیلئے خطرات کی نشاندہی کر چکے ہیں۔