واشنگٹن، 2 اپریل 2026: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے، جس میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی میڈیا رپورٹ (Axios) کے مطابق گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کو ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی سے متعلق جاری سفارتی کوششوں پر بریفنگ دی۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے اس رابطے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ایران کو پاکستان کے ذریعے ایک امن منصوبہ بھی بھیجا ہے، جس میں ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرامز کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں سمندری سلامتی سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔
ایران نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام رابطے ثالثوں کے ذریعے ہو رہے ہیں، اور واشنگٹن کی شرائط کو “غیر حقیقت پسندانہ اور حد سے زیادہ سخت” قرار دیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر سے جاری فضائی حملوں میں 1,900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایران نے بھی اسرائیل اور خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے جوابی کارروائیاں کی ہیں۔
دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق اس تنازع میں اب تک کم از کم 13 امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیوں اور شپنگ روٹس پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز میں۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر دعویٰ کیا کہ ایران کے “نرم مزاج نئے رہنما” نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے، تاہم ایران نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق کوئی بھی باضابطہ جنگ بندی تجویز پیش نہیں کی گئی، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک “جارح کو سزا نہیں دی جاتی اور مکمل معاوضہ ادا نہیں کیا جاتا”۔
علاقائی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر توانائی قیمتوں اور سیکیورٹی خدشات میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔