سلام آباد، 15 اپریل (ویب ڈیسک): صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بلوچستان کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اتحاد، خود احتسابی اور مکالمہ ناگزیر ہیں، جبکہ مسائل کا حل صرف بات چیت اور جمہوری شمولیت میں ہے، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایوانِ صدر میں نیشنل ورکشاپ بلوچستان-19 کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے وسائل کا مؤثر استعمال، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول اور نوجوانوں کی ترقی پر خصوصی توجہ ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے کسانوں کی معاونت، زرعی جدید کاری اور پانی کے بہتر انتظام کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور تسلسل کو یقینی بنانا ہوگا۔
صدر زرداری نے کہا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی چیلنجز کو ذمہ داری اور قومی یکجہتی کے ساتھ حل کرنا ہوگا، جبکہ غیر ملکی شہریوں خصوصاً چینی اساتذہ اور ورکرز پر حملے افسوسناک اور ملکی مفاد کے خلاف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود طویل المدتی ترقیاتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، جبکہ سی پیک کے تحت صوبے کو علاقائی اور عالمی منڈیوں سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ گوادر پورٹ کی ترقی سے حاصل ہونے والے فوائد مقامی آبادی تک پہنچنے چاہئیں تاکہ علاقے میں احساسِ محرومی کم کیا جا سکے، جبکہ پانی کی بچت اور آبپاشی کے نظام کی بہتری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔