24°C Sunny

ایران میں بہنے والے آنسو پوری امتِ مسلمہ کے ہیں، ترک صدر کا بیان

انقرہ (GWADAR SPEAKS – ویب ڈیسک): ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ایران میں بہنے والے آنسو دنیا کے کسی بھی خطے میں بسنے والے مسلمان کے آنسوؤں سے مختلف نہیں ہیں، موجودہ صورتحال پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک مشترکہ آزمائش ہے۔

خطے کی صورتحال پر تشویش

انقرہ میں حکمران جماعت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان نے خطے میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسرائیلی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جاری تنازع خطے کو ایک بڑے بحران کی طرف دھکیل رہا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایران کے شہروں اصفہان، تبریز اور تہران میں بہنے والے آنسو اور دیگر مسلم ممالک کے شہروں جیسے بغداد، بیروت، ریاض اور دوحہ میں بہنے والے آنسوؤں میں کیا فرق ہے، جبکہ ہر حملے کا نشانہ عام شہری ہی بنتے ہیں۔

امتِ مسلمہ کے اتحاد پر زور

صدر اردوان نے کہا کہ موجودہ حالات میں نہ مسلک کی تمیز رہی ہے اور نہ ہی نسل کی، بلکہ ہر حملہ پوری امت کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترکیہ اپنے برادر اسلامی ممالک کے ساتھ کھڑا ہے اور انہیں مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑے گا۔

مسجد اقصیٰ پر مؤقف

انہوں نے مسجد اقصیٰ میں عبادت پر پابندیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عید کی نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنا دو ارب مسلمانوں کے عقیدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ میں عبادت کا حق کسی صورت محدود نہیں کیا جا سکتا۔

انسانیت کے لیے خطرہ

ترک صدر نے خبردار کیا کہ اگر یہ جنگ جاری رہی تو اس کی قیمت صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کو چکانا پڑے گی، اور عالمی برادری کو فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔