میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کی 61ویں برسی آج ملک بھر میں عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔ نشان حیدر کے حامل میجر عزیز بھٹی شہید 6 اگست 1928 کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے اور 21 جنوری 1948 کو پاکستان ملٹری اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی۔ 1950 میں پہلے باقاعدہ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر انہیں بہترین کیڈٹ کا اعزاز، تلوارِ اعزاز اور نارمن گولڈ میڈل دیا گیا۔ 1965 کی جنگ میں انہوں نے لاہور کے قریب برکی کے محاذ پر غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 دن اور رات مسلسل دشمن کا مقابلہ کیا۔ بی آر بی نہر کے قریب کمپنی کمانڈر کی حیثیت سے تعیناتی کے باوجود انہوں نے مشاہداتی چوکی کی ذمہ داری خود سنبھالی اور شدید بھوک و پیاس کے باوجود دفاع جاری رکھا۔ انہوں نے دشمن کے 2 ٹینک تباہ کیے اور بھارتی فوج کو بھاری نقصان پہنچایا۔ 12 ستمبر کی صبح دشمن کی پیش قدمی کے دوران وہ مسلسل فائرنگ کرتے رہے اور بعد ازاں دشمن کی گولہ باری میں سینے پر گولہ لگنے سے شہید ہوگئے۔ ان کی عظیم قربانی کے اعتراف میں 23 مارچ 1966 کو انہیں نشان حیدر سے نوازا گیا۔ مسلح افواج کی قیادت اور صدر آصف علی زرداری نے ان کی جرأت، فرض شناسی اور عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں نئی نسل کے لیے مشعل راہ قرار دیا