31°C Sunny

اسلام آباد نے ایران کی نئی تجویز امریکہ کو پہنچا دی

پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ایران کی نظرثانی شدہ تجویز امریکہ تک پہنچا دی ہے، تاکہ تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی رابطہ کار کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستانی ذرائع نے بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں اور مذاکرات میں پیش رفت کے لیے وقت تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تصدیق کی ہے کہ تہران کا تازہ مؤقف پاکستان کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچایا گیا ہے، جس سے پاکستان کی سفارتی ثالثی مزید نمایاں ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان سب سے بڑے اختلافات ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی صورتحال، امریکی پابندیوں اور جنگی نقصانات کے ازالے سے متعلق ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ مکمل جنگ بندی اور مستقبل میں حملوں کے خلاف ضمانتوں کے بغیر وہ تفصیلی جوہری مذاکرات آگے نہیں بڑھائے گا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حالیہ دنوں میں اس عارضی جنگ بندی کو “انتہائی نازک” قرار دے چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکراتی عمل اس وقت انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں کسی بھی قسم کی پیش رفت یا ناکامی خطے کی مجموعی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

اسی دوران ایران نے آبنائے ہرمز میں سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے “پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی” کے نام سے نیا ادارہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جو سمندری نقل و حرکت اور گزرگاہ سے متعلق معاملات کی نگرانی کرے گا۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اس اہم بحری راستے میں ممکنہ رکاوٹوں پر تشویش بڑھ رہی ہے۔

دوسری جانب خلیجی ممالک میں حالیہ ڈرون حملوں اور حساس تنصیبات کو لاحق خطرات نے علاقائی سلامتی کے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔ اقوام متحدہ اور مختلف خلیجی ممالک نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دیں۔