بینک آف پنجاب کے صدر اور معروف بینکار ظفر مسعود نے پاکستان کی معاشی کارکردگی کو جانچنے کے لیے ایک نئے ویلفیئر جی ڈی پی فریم ورک کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ محض مجموعی ملکی پیداوار میں اضافہ حقیقی عوامی ترقی کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی اعداد و شمار اور عام گھرانوں کی معاشی صورتحال دو مختلف حقائق بیان کرتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال پاکستان کی مجموعی پیداوار میں 3.7 فیصد اضافہ ہوا، جو چار سال کی بلند ترین شرح تھی، تاہم عام خاندان کی آمدن، قوت خرید اور اخراجات میں اسی رفتار سے بہتری ضروری نہیں۔
ظفر مسعود کے مطابق ویلفیئر جی ڈی پی کا بنیادی تصور حقیقی فی کس قابل تصرف آمدن میں اضافے کو آمدن کی تقسیم اور کم آمدنی والے طبقے کو درپیش قیمتوں کے مطابق جانچنا ہے۔ اس فریم ورک میں چار بنیادی عوامل شامل کیے گئے ہیں جن میں آبادی، قومی آمدن، آمدن کی تقسیم اور کم آمدنی والے گھرانوں کو درپیش مہنگائی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ روایتی جی ڈی پی میں آبادی میں اضافے کا اثر مکمل طور پر عوامی فلاح کے تناظر میں نمایاں نہیں ہوتا۔ مردم شماری اور بین الاقوامی تخمینوں میں آبادی بڑھنے کی شرح مختلف ہے جبکہ بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے پاکستانی کارکن بھی ملکی آبادی کی حقیقی شرح نمو پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
فریم ورک میں مجموعی ملکی پیداوار کے بجائے مجموعی قومی قابل تصرف آمدن کو بھی اہمیت دی گئی ہے کیونکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر ملکی آمدن اور گھریلو معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔
آمدن کی تقسیم کے حوالے سے تجویز میں عالمی بینک کے شیئرڈ پراسپرٹی معیار کو اختیار کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کے تحت معاشرے کے کم ترین آمدنی رکھنے والے 40 فیصد طبقے کی اوسط آمدن میں اضافے کو معاشی فلاح کا اہم پیمانہ تصور کیا جائے گا۔
ظفر مسعود نے مزید کہا کہ کم آمدنی والے گھرانوں کے اخراجات میں خوراک اور توانائی کا حصہ نصف سے زیادہ ہوتا ہے، اس لیے قومی اوسط مہنگائی کے بجائے مختلف آمدنی والے طبقات کی ضروریات اور اخراجاتی ساخت کے مطابق قیمتوں کا اشاریہ استعمال کرنا زیادہ مؤثر ہوگا۔