امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ۱۱ اپریل سے پاکستان میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔ یہ اعلان وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے ایک بریفنگ میں کیا۔
ترجمان کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی نے ایک ایسا موقع پیدا کیا ہے جو خطے میں دیرپا امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔
تاہم مذاکرات میں زیر بحث آنے والے امن منصوبوں کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں، اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی صورتحال بھی غیر یقینی ہے۔
اس سے قبل ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو خبردار کیا تھا کہ بغیر اجازت داخل ہونے کی صورت میں انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس ترجمان کے مطابق ایران کی عوامی بیانات اور نجی مؤقف میں فرق پایا جاتا ہے۔
بریفنگ کے دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے “آپریشن ایپک فیوری” کے بنیادی فوجی اہداف حاصل کر لیے ہیں جن میں ایران کی بحریہ، ڈرون اور بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔
جنگ بندی کے بعد جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے نمائندوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہوں گے۔
مذاکرات کی تفصیلات اور زیر بحث تجاویز ابھی تک واضح نہیں کی گئیں۔