ک ٹریڈ ریسرچ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کا پائیدار حل نکل آتا ہے تو پاکستان کو تقریباً 20 ارب ڈالر تک کے معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، جن میں تجارت کی بحالی، توانائی میں بچت، گوادر سے منسلک ٹرانزٹ سرگرمیوں اور سعودی دفاعی و سرمایہ کاری فریم ورک سے متعلق امکانات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ تنازع اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں پہلے ہی پاکستان کی معیشت کو 10 سے 14 ارب ڈالر تک کا نقصان پہنچا چکی ہیں، جو ملک کی جی ڈی پی کا تقریباً 2 سے 3 فیصد بنتا ہے۔ اس صورتحال کے اثرات میں مہنگائی میں اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور پالیسی ریٹ میں اضافہ شامل رہا۔
ک ٹریڈ نے اندازہ لگایا ہے کہ کسی ممکنہ امن معاہدے کی صورت میں پاکستان کو قریب المدت بنیادوں پر تقریباً 20 ارب ڈالر کا فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس میں ایران کے ساتھ تجارت سے 2 ارب ڈالر، ایران-پاکستان گیس پائپ لائن سے 2 ارب ڈالر، گوادر ٹرانزٹ کوریڈور سے 1 ارب ڈالر جبکہ سعودی دفاعی اور سرمایہ کاری فریم ورک سے تقریباً 15 ارب ڈالر کے امکانات شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کے خاتمے کی صورت میں ایران کے ساتھ پاکستان کی برآمدات، خصوصاً چاول، گوشت، ٹیکسٹائل، پھل، دالیں اور طبی سامان میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ توانائی کے شعبے میں ایران-پاکستان گیس پائپ لائن روزانہ 750 ملین کیوبک فٹ گیس فراہم کر سکتی ہے جو مہنگی ایل این جی کے مقابلے میں زیادہ سستی ہوگی۔
ک ٹریڈ کے مطابق اس منصوبے سے پاکستان کو سالانہ 1.5 سے 2 ارب ڈالر تک کی توانائی بچت ممکن ہے۔ رپورٹ میں گوادر کی اسٹریٹجک اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز سے باہر ہونے کی وجہ سے یہ علاقائی ٹرانزٹ اور تجارت کا متبادل مرکز بن سکتا ہے، جس سے بندرگاہی آمدنی اور لاجسٹکس سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔