اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق پاکستان کی معیشت نے مالی سال 2026 میں 3.7 فیصد شرح نمو حاصل کی ہے جو حکومت کے 4.2 فیصد ہدف سے کم ہے، جبکہ ملک کا مجموعی اقتصادی حجم بڑھ کر 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اقتصادی سروے جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی معاشی کارکردگی مختلف بیرونی چیلنجز کے باوجود برقرار رہی ہے۔ ان کے مطابق مالی سال کے آغاز میں تجارتی غیر یقینی صورتحال، بعد ازاں سیلاب اور خطے میں کشیدگی جیسے عوامل نے معیشت پر اثر ڈالا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ بجٹ اہداف پر بات چیت جاری ہے اور مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ برآمدات کے شعبے میں بہتری دیکھی گئی ہے، خصوصاً امریکی مارکیٹ تک رسائی میں بہتری کے بعد۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگرچہ شرح نمو مقررہ ہدف سے کم رہی ہے، تاہم معیشت کے مجموعی حجم میں اضافہ اور بیرونی دباؤ کے باوجود تسلسل کو ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔