اسلام آباد ہائیکورٹ نے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال اور فروخت کی روک تھام کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی مانیٹرنگ کمیٹی میں اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) اور پولیس کے نمائندوں کو بھی شامل کرے۔ عدالت نے اس حوالے سے سخت نگرانی اور تفصیلی عملدرآمد رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔
جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے یہ ہدایت ایک درخواست کی سماعت کے دوران جاری کی، جس میں تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک بنانے کے اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔ عدالت نے وزارت تعلیم کو بھی ہدایت کی کہ وہ منشیات کے خلاف قواعد و ضوابط کے لیے وفاقی حکومت سے منظوری حاصل کرے۔
سماعت کے دوران ہائر ایجوکیشن کمیشن، وزارت داخلہ، اے این ایف اور دیگر اداروں کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ منشیات کا استعمال اب صرف یونیورسٹیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اسکولوں تک بھی پھیل چکا ہے، حتیٰ کہ مڈل کلاس کے طلبہ بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ بعض علاقوں میں منشیات چھوٹی دکانوں اور ڈیلیوری رائیڈرز کے ذریعے بھی منتقل ہو رہی ہے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ پہلے ہی نشاندہی کی گئی تھی کہ رائیڈرز اور دیگر ذرائع کے ذریعے منشیات کی ترسیل ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔
عدالت نے اسلام آباد پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ تعلیمی اداروں میں نگرانی کو مزید مؤثر بنائیں اور منشیات کے نیٹ ورک کے خلاف عملی اقدامات کریں۔ اس کے ساتھ عدالت نے واضح کیا کہ آئندہ سماعت پر تمام ادارے تفصیلی تعمیلی رپورٹ پیش کریں۔