پاکستان میں اعلیٰ سطح پر سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور منعقد کیا جا سکے اور کشیدگی کو دوبارہ تصادم میں بدلنے سے روکا جا سکے۔ حکام کے مطابق پاکستان اس عمل میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے جبکہ علاقائی ممالک بھی اس سفارتی کوشش کی حمایت کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی مذاکرات اسلام آباد میں ہوئے تھے جہاں معاہدے کا مسودہ تقریباً تیار ہو چکا تھا، تاہم آخری لمحات میں اختلافات کے باعث معاہدہ طے نہ پا سکا۔ اب پاکستان، ترکیہ اور دیگر علاقائی طاقتیں دوبارہ مذاکرات کے آغاز کے لیے سرگرم ہیں تاکہ جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ دنوں سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے دورے میں علاقائی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جن میں خطے میں امن، توانائی کے تحفظ اور استحکام پر بات چیت کی گئی۔
دوسری جانب امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مذاکرات میں پیش رفت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ فریقین کے درمیان کئی معاملات پر اتفاق ہو چکا ہے اور جلد اہم پیش رفت ممکن ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو جنگ بندی متاثر ہو سکتی ہے۔
علاقائی سفارتی ذرائع کے مطابق مصر، ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب مشترکہ طور پر ایک ایسا فریم ورک تیار کر رہے ہیں جس کا مقصد خطے میں مستقل امن، توانائی تحفظ اور تجارتی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔