30°C Sunny

قومی اسمبلی میں اے آئی پر مبنی پیپر لیس نظام کا آغاز

قومی اسمبلی نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایک نیا پارلیمانی نظام متعارف کروا دیا ہے، جس کا مقصد قانون سازی کے عمل کو مکمل طور پر پیپر لیس اور زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ یہ اقدام پارلیمانی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ نظام ایک سافٹ لانچ تقریب میں متعارف کرایا گیا جس میں قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور میں پارلیمانی امور میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف کام کی رفتار میں بہتری آتی ہے بلکہ ادارہ جاتی شفافیت بھی مضبوط ہوتی ہے۔

اسپیکر کے مطابق نئے نظام کے ذریعے فزیکل فائلوں کی منتقلی میں ہونے والی تاخیر کم ہو گئی ہے اور قانون سازی کے عمل میں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی نے بھی پارلیمانی کارروائی کے دوران ٹیکنالوجی کے استعمال میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ قومی اسمبلی مرحلہ وار پیپر لیس نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، اور اس سلسلے میں بجٹ دستاویزات کو بھی ڈیجیٹل شکل میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ روز اسمبلی نے پہلی بار مکمل طور پر پیپر لیس کارروائی کا تجربہ کیا، جو ادارے کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

تقریب میں بتایا گیا کہ نیا اے آئی نظام اراکین اسمبلی کو قانون سازی اور پارلیمانی امور میں بہتر معاونت فراہم کرے گا، جس سے فیصلہ سازی کا عمل مزید مؤثر اور تیز ہوگا۔ اسپیکر نے کہا کہ یہ اقدام ادارہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنانے اور پارلیمانی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔