بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں غیر رجسٹرڈ دینی مدارس کی رجسٹریشن کے لیے خصوصی مہم شروع کر دی ہے جس کا مقصد تمام تعلیمی و دینی اداروں کو قانونی دائرہ کار میں لانا اور انتظامی نگرانی کو مضبوط بنانا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق صوبے میں تقریباً 300 ایسے مدارس کی نشاندہی کی گئی ہے جو تاحال باضابطہ رجسٹریشن کے بغیر کام کر رہے ہیں، جنہیں اب بلوچستان مدارس رجسٹریشن ایکٹ 2019 کے تحت قانونی حیثیت دی جائے گی۔ حکام کے مطابق مجموعی طور پر صوبے میں تقریباً 2600 مدارس فعال ہیں جن میں سے اکثریت پہلے ہی رجسٹرڈ ہے جبکہ باقی اداروں کی رجسٹریشن آئندہ تین ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک مرکزی ڈیٹا بیس بھی تیار کیا گیا ہے جس میں مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامی ذرائع سے حاصل معلومات شامل ہیں تاکہ نگرانی کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔ حکومت نے اس عمل کو شفاف بنانے اور کسی بھی غلط فہمی سے بچنے کے لیے مذہبی رہنماؤں اور مختلف دینی بورڈز کے نمائندوں سے مشاورت کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے۔ کوئٹہ میں متعدد اجلاسوں میں حکومتی حکام اور مذہبی شخصیات نے اس معاملے پر بات چیت کی ہے تاکہ عمل درآمد آسان اور قابل قبول بنایا جا سکے۔ حکام کے مطابق اس مہم کا مقصد کسی مخصوص ادارے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ دینی تعلیمی اداروں میں شفافیت، جوابدہی اور انتظامی بہتری کو فروغ دینا ہے۔ ماہرین کے مطابق مدارس کی مؤثر رجسٹریشن صوبے میں بہتر حکمرانی اور ادارہ جاتی نگرانی کے لیے اہم قدم ہے جو طویل عرصے سے ایک انتظامی ضرورت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔