29°C Sunny

بلوچستان میں جلد مارکیٹ بندش نافذ، پیٹرول اوورچارجنگ پر ہیلپ لائن 1129 جاری

کوئٹہ، بلوچستان، پاکستان میں حکومت نے توانائی بچت منصوبے کے تحت صوبے بھر میں مارکیٹوں اور کاروباری اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت تمام بازار اور شاپنگ سینٹرز رات 8 بجے جبکہ ریسٹورنٹس 10 بجے بند کرنا لازمی ہوگا۔

یہ فیصلہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا، جس کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا اور توانائی کے استعمال کو کنٹرول کرنا ہے۔ حکام کے مطابق فارمیسی، تندور اور بیکریاں ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گی۔

Balochistan Home Department کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب حکومت نے پیٹرول کی زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف شکایات درج کرانے کیلئے ہیلپ لائن 1129 بھی جاری کر دی ہے، جہاں شہری اوورچارجنگ اور دیگر بے ضابطگیوں کی فوری اطلاع دے سکتے ہیں۔

تاہم تاجر برادری نے نئے اوقات کار کو مسترد کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے کاروبار شدید متاثر ہوگا، جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ عوامی مفاد میں فیصلے پر عملدرآمد جاری رہے گا۔

Just In
27-10-2026
ایف سی بلوچستان کی افغان مہاجرین کو مخصوص علاقوں سے انخلا اور افغانستان واپسی کے لیے سات روز کی مہلت ۲۔ افغان مہاج بلوچستان میں 48 گھنٹے کی بارش کے بعد موسم خشک، حادثات میں 9 افراد جاں بحق بلوچستان میں صحت کے شعبے کی ڈیجیٹل تبدیلی میں پیش رفت، وزیر صحت بخت کاکڑ پی آئی اے کی نجکاری مکمل ہونے کے قریب – رواں ماہ نئے مالکان کے حوالے کیے جانے کا امکان اقوام متحدہ میں پاکستان کا انتباہ، مصنوعی ذہانت اور ڈرون جنگ بچوں کے لیے سنگین خطرہ قرار – تنازعات کی بنیادی وجوہات ختم کرنے اور عالمی احتساب پر زور پاکستان کی بندرگاہوں کی جدید کاری اور بلیو اکانومی کو ترجیح آئی ایم ایف مشن کی پاکستان آمد، مالی سال 2026-27 بجٹ پر مذاکرات شروع وزارت اطلاعات نے رپورٹ کو بے بنیاد قرار دے دیا، فوجی اثاثوں کے استعمال سے متعلق تفصیلات متعلقہ حکام جاری کریں گے نوکریوں کی فراہمی قومی ترجیح ہے، بلوچستان کے گورنر کا کراچی میں اظہار خیال وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا سیاسی ہم آہنگی اور امن کو ترقی کی بنیاد قرار دینے پر زور