پاکستان چین مشترکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے گوادر میں چین کے تعاون سے قائم پاکستان فرینڈشپ اسپتال کی کامیاب کارکردگی کو سراہتے ہوئے ملک کے دیگر علاقوں میں بھی اسی طرز کے جدید طبی مراکز قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ چیمبر کے کمرشل سفیر عدیل منور نے کہا کہ گوادر فرینڈشپ اسپتال اس بات کی عملی اور کامیاب مثال ہے کہ پاکستان اور چین کے باہمی تعاون کو مقامی آبادی کے لیے حقیقی فوائد میں کیسے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو گوادر اسپتال کے تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے پنجاب اور دیگر کم ترقی یافتہ علاقوں میں جدید طبی سہولیات کو وسعت دینی چاہیے۔ ان کے مطابق بڑے طبی مراکز میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں سے متعلق حالیہ خدشات نے بہتر لیس اسپتالوں، جدید ہنگامی سہولیات اور طبی ٹیکنالوجی کی ضرورت مزید اجاگر کردی ہے۔ عدیل منور نے زور دیا کہ پاک چین صحت تعاون صرف اسپتالوں کی تعمیر تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی، طبی تربیت، آن لائن طب، ڈیجیٹل صحت، جدید تشخیصی نظام اور ہنگامی ردعمل کے طریقہ کار کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ گوادر فرینڈشپ اسپتال اپنے قیام سے اب تک تقریباً ڈیڑھ لاکھ مریضوں کی تشخیص اور علاج کرچکا ہے۔ انہوں نے پنجاب کے بڑے شہروں اور کم سہولیات والے اضلاع سمیت سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی ایسے اسپتال قائم کرنے کی تجویز دی۔