دانش اسکول اتھارٹی بورڈ آف گورنرز نے دانش اسکول منصوبے میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ کا کوٹہ بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے بھی خصوصی کوٹہ مختص کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ دانش اسکول اتھارٹی کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ خصوصی کوٹہ سسٹم کے تحت اس وقت دیگر صوبوں کے تقریباً 1100 طلبہ دانش اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ نئے فیصلے کے تحت بلوچستان کے طلبہ کے لیے تعلیمی مواقع میں مزید اضافہ کیا جائے گا، جبکہ آئندہ تعلیمی سال سے بنگلہ دیشی طلبہ بھی اس تعلیمی منصوبے کا حصہ بن سکیں گے۔
رانا سکندر حیات نے دانش اسکول منصوبے کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان اداروں سے فارغ التحصیل 3460 طلبہ مختلف شعبوں میں پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ 110 دانش اسکول طلبہ مکمل اسکالرشپ پر بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
اجلاس کے دوران حکام نے بتایا کہ طلبہ کی جدید تعلیم اور صلاحیتوں میں اضافے کے لیے چھٹی سے نویں جماعت تک مصنوعی ذہانت پر مبنی نصاب متعارف کرا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ طلبہ کی سماجی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
بورڈ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ دانش اسکولوں اور سینٹرز آف ایکسیلنس میں 16 ڈے کیئر سینٹرز قائم کیے جا چکے ہیں۔ حکام کے مطابق دانش اسکول منصوبہ پسماندہ علاقوں کے باصلاحیت طلبہ کو معیاری تعلیم، جدید سہولیات اور بہتر مستقبل کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مزید توسیع دی جا رہی ہے۔