بیجنگ، چین میں 31 مارچ کو چین اور پاکستان نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں مشترکہ طور پر پانچ نکاتی امن اقدام پیش کیا، جس کا مقصد خطے میں امن و استحکام بحال کرنا ہے۔
اس اقدام میں فوری جنگ بندی، جلد از جلد مذاکرات کا آغاز، غیر فوجی اہداف کا تحفظ، بحری راستوں کی سیکیورٹی اور United Nations کے چارٹر کی بالادستی پر زور دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ نکات نہ صرف چین اور پاکستان کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ عالمی برادری کی مشترکہ خواہشات سے بھی ہم آہنگ ہیں۔
China اور Pakistan نے اس دوران قریبی رابطہ برقرار رکھتے ہوئے بیجنگ اور اسلام آباد سمیت اقوام متحدہ کی سطح پر بھی مشترکہ حکمت عملی اپنائی۔ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان متعدد رابطے اور ملاقاتیں ہوئیں جن میں امن، مذاکرات اور خطے میں استحکام پر زور دیا گیا۔
چین نے ایک ذمہ دار عالمی طاقت اور سلامتی کونسل کے مستقل رکن کے طور پر فریقین سے رابطے جاری رکھے، جبکہ پاکستان نے ثالثی اور سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں فعال کردار ادا کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مشترکہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی نظام پیچیدہ صورتحال سے گزر رہا ہے اور جنگی کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت اور امن پر واضح ہو رہے ہیں، جس کے باعث عالمی برادری خصوصاً ترقی پذیر ممالک امن اور انصاف پر مبنی نظام کے خواہاں ہیں۔