گوادر میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت مشترکہ ورکنگ گروپ کا نواں اجلاس آئندہ ہفتے منعقد ہوگا، جس کی تیاریوں کے سلسلے میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں مکمل، جاری اور مجوزہ منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں گوادر پورٹ، گوادر فری زون، نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ایسٹ بے ایکسپریس وے اور پاک چین فنی و پیشہ ورانہ تربیتی ادارے سمیت اہم منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ پانی کی فراہمی، پانی صاف کرنے کے منصوبوں اور گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کے تحت جاری سرگرمیوں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ مستقبل کے منصوبوں میں پاک چین دوستی ہسپتال کی توسیع شامل ہے، جس کے تحت اس کی گنجائش 300 بستروں تک بڑھانے کے ساتھ طبی اور نرسنگ کالج قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اجلاس میں مغربی خلیج میں جدید مچھلی اتارنے کی جیٹی اور فش ہاربر، جبکہ کشتی سازی کی صنعت کے قیام کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔ گوادر فری زون کے پہلے مرحلے کی تکمیل جبکہ دوسرے مرحلے پر کام جاری رہنے سے متعلق حکام نے بریفنگ دی۔ گوادر پورٹ کے مستقبل کے کاموں میں حفاظتی بند، برتھنگ ایریاز اور بحری راستوں کی گہرائی بڑھانے اور صنعتی علاقوں کو پانی فراہم کرنے کو ترجیح قرار دیا گیا۔ حکام نے اداروں کو ہدایت کی کہ اجلاس سے قبل منصوبوں کی تازہ پیش رفت اور آئندہ ترجیحات حتمی شکل دی جائیں تاکہ گوادر کی ترقی کے لیے مؤثر لائحہ عمل مرتب کیا جاسکے۔