بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس کامران خان ملاخیل نے صوبے کے لاء کالجز میں تعلیمی معیار اور طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وکلا کی بڑھتی تعداد کے باوجود قانون کے طلبہ کو مناسب تعلیمی تربیت فراہم نہیں کی جا رہی۔
نئے تعینات ایڈیشنل ججز کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ وکلا کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تاہم بعض اوقات قانون کے فارغ التحصیل طلبہ کو مطلوبہ علمی اور پیشہ ورانہ تربیت کے بغیر ڈگریاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اس رجحان میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔
جسٹس کامران خان ملاخیل نے بار ایسوسی ایشنز اور وکلا کی دیگر تنظیموں پر زور دیا کہ وہ قانونی تعلیم کے معیار اور طلبہ کی مناسب تربیت کے معاملے پر خصوصی توجہ دیں۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان ہائیکورٹ میں دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے سائلین اور وکلا کی سہولت کے لیے ویڈیو لنک کی سہولت متعارف کرائی جا رہی ہے۔ عدالتی امور سے متعلق معاملات کو آسان بنانے کے لیے ون ونڈو آپریشن بھی شروع کیا جائے گا۔
تقریب میں جسٹس مین رﺅف عطا، جسٹس نجم مینگل، جسٹس عبدالقیم لہڑی، بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میر عطا اللہ لانگو اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ قانونی تعلیم میں معیار کو بہتر بنانا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں پیشہ ورانہ صلاحیت رکھنے والے وکلا تیار ہوں اور نظام انصاف کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔