پاکستان بزنس فورم نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ بجٹ میں برآمدات کے فروغ کے لیے واضح اور مؤثر حکمت عملی شامل نہیں کی گئی، جو ایک اہم موقع ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ فورم کے صدر خواجہ محبوب الرحمن نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی میں 18 فیصد اضافے کا ہدف مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دے گا، جس کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداوار کی لاگت پر پڑے گا۔
کاروباری تنظیم نے یہ بھی کہا کہ بجٹ میں صنعتی شعبے کے لیے توانائی کے نرخوں میں کوئی قابلِ ذکر کمی شامل نہیں کی گئی، حالانکہ کئی صنعتیں اس وقت اپنی نصف صلاحیت پر کام کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق توانائی کی لاگت میں کمی کے بغیر صنعتی بحالی ممکن نہیں۔
فورم نے اگرچہ سپر ٹیکس میں 2 فیصد کمی اور 5 کروڑ روپے سالانہ ٹرن اوور تک کاروباروں کے لیے اس کے خاتمے کو مثبت قدم قرار دیا ہے، تاہم مجموعی طور پر دیے گئے ریلیف کو ناکافی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معیشت میں غیر دستاویزی شعبہ بڑھ رہا ہے، جو پالیسی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔
دوسری جانب سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے بانی چیئرمین اسماعیل ستار نے کہا کہ بجٹ میں برآمدات بڑھانے کے لیے کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ان کے مطابق حکومت نے ایک سادہ اور واضح ٹیکس نظام فراہم نہیں کیا، جبکہ برآمدکنندگان کو اب بھی پیچیدہ ٹیکس ڈھانچے اور اضافی کاغذی کارروائی کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے دیگر ممالک برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ٹیکس مراعات اور کم پیداواری لاگت کی پالیسیاں اپنا رہے ہیں، جبکہ پاکستان کا بجٹ اس حوالے سے مسابقتی نہیں ہے۔