امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے ابتدائی معاہدے کو دستخط سے قبل ہی جاری کرنے پر غور کر سکتے ہیں، جبکہ معاہدے پر باقاعدہ دستخط 19 جون کو جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ایک عارضی فریم ورک کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے تحت امریکہ اور ایران کو 60 روز کی مدت دی گئی ہے تاکہ وہ مستقل امن معاہدے پر حتمی مذاکرات مکمل کر سکیں۔ اس دوران ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر اور دیگر متنازع امور پر بات چیت کی جائے گی۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ یہ معاہدہ سخت شرائط پر مبنی ہے اور ایران کو کسی بھی قسم کے تعمیر نو فنڈز یا مالی فوائد اسی صورت میں حاصل ہوں گے جب وہ معاہدے کی مکمل پاسداری کرے گا۔ ان کے مطابق “ایران کو اس وقت تک ایک ڈالر بھی نہیں ملے گا جب تک وہ اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پایا جانے والا میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ ایک مختصر اور ابتدائی نوعیت کا دستاویز ہے، جو مستقبل کے وسیع تر معاہدے کی بنیاد فراہم کرے گا۔
امریکی حکام کے مطابق اس معاہدے کو آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں عوام کے سامنے لانے کا امکان ہے، جس سے اس کے نکات اور شرائط واضح ہوں گی۔ حکام نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدام خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے اور طویل مدتی امن کے امکانات کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں توانائی کی سپلائی، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے راستے، عالمی منڈیوں کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔