پاکستان اور کروشیا نے اسلام آباد میں کروشین ویزا پراسیسنگ سہولت مرکز کے قیام کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ پاکستانی شہریوں کو ویزا حصول کے لیے تہران سفر کرنے کی ضرورت نہ پڑے اور دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط مزید مضبوط ہوں۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعرات کو کروشیا کے وزیر خارجہ و یورپی امور گورڈن گرلک ریڈمین کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کروشیا کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں ویزا پراسیسنگ سہولت کے قیام کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستانی شہریوں کو کروشین ویزا کے لیے تہران جانا پڑتا ہے، جس سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے کروشین وزیر خارجہ سے درخواست کی ہے کہ اسلام آباد میں ویزا مرکز قائم کیا جائے یا متبادل طور پر کسی مجاز سروس فراہم کنندہ کے ذریعے یہ سہولت فراہم کی جائے۔ ان کے مطابق کروشین وزیر خارجہ نے اس معاملے پر مثبت ردعمل دیا ہے۔
کروشین وزیر خارجہ گورڈن گرلک ریڈمین نے کہا کہ کروشیا دونوں ممالک کے عوامی روابط کو فروغ دینے کا خواہاں ہے اور پاکستان میں ویزا پراسیسنگ مرکز کے قیام کو اہم سمجھتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سہولت جلد فعال ہو جائے گی۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، ترقیاتی تعاون، زراعت، ہنرمند افرادی قوت، تعلیم، دفاع، سیاحت، انفراسٹرکچر اور بندرگاہوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی گفتگو ہوئی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مستقبل میں پاکستان اور کروشیا کے نجی شعبوں کے درمیان بزنس ٹو بزنس تجارتی فورم بھی منعقد کیا جائے گا تاکہ سرمایہ کاری اور اقتصادی روابط کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کروشین سرمایہ کاروں کو پاکستان کی سرمایہ کاری پالیسیوں سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔
کروشین وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اور اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں بھی دوطرفہ تعاون، تجارت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، رابطہ کاری، زراعت، سیاحت اور ہنرمند افرادی قوت کے شعبوں میں تعلقات مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔