ضلعی انتظامیہ گوادر نے ماہی گیروں کے لیے مختص زمینوں پر قبضہ مافیا کے خاتمے کے لیے جدید جی پی ایس ٹیکنالوجی کے استعمال اور سخت قانونی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ڈپٹی کمشنر گوادر نعیب اللہ ککر اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کی زیر صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلع بھر میں فشریز کالونیوں کی مکمل حد بندی اور ڈیجیٹل میپنگ کے لیے جدید جی پی ایس سسٹم استعمال کیا جائے گا تاکہ سرکاری اور محفوظ زمینوں کی واضح نشاندہی ممکن بنائی جا سکے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد غیر قانونی قابضین کے خلاف مؤثر کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ مونیڈے (Moondi) علاقے میں ماہی گیروں کے لیے مختص تقریباً 200 ایکڑ سرکاری زمین کو فوری طور پر غیر قانونی قابضین سے واگزار کرایا جائے۔ یہ زمین طویل عرصے سے مبینہ طور پر قبضہ مافیا کے زیر استعمال تھی۔
صوبائی حکومت نے واگزار کرائی گئی زمین کو ماہی گیر خاندانوں کے لیے ہاؤسنگ اسکیم کے تحت استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کم آمدنی والے طبقے کو رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف زمینوں کے تحفظ اور شفاف انتظام کو یقینی بنائے گا بلکہ گوادر میں مقامی ماہی گیر برادری کے دیرینہ مسائل کے حل میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔