بلوچستان حکومت نے سندھ حکومت پر نہری پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کا الزام عائد کرتے ہوئے قانونی کارروائی پر غور شروع کر دیا ہے، کیونکہ مسلسل رابطوں اور اعلیٰ سطحی مذاکرات کے باوجود صوبے کو اس کا منظور شدہ حصہ فراہم نہیں کیا جا رہا۔ حکومتی حکام کے مطابق صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی ہے جب دریا میں پانی کی مجموعی آمد بہتر ہونے کے باوجود بلوچستان کو اس کے حصے سے کم پانی مل رہا ہے۔
پیٹ فیڈر کینال کے سپرنٹنڈنگ انجینئر مدثر کھوسو کے مطابق انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA) کی رپورٹ کے مطابق پانی کی دستیابی بہتر ہے، تاہم سندھ ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کو اس کے مقررہ حصے سے تقریباً 46 فیصد کم پانی فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کو 0.678 ملین ایکڑ فٹ پانی الاٹ کیا گیا ہے، لیکن اس وقت صرف 0.365 ملین ایکڑ فٹ پانی مل رہا ہے، جس سے تقریباً 0.310 ملین ایکڑ فٹ کا شدید شارٹ فال پیدا ہو گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مختلف مقامات پر پانی کی فراہمی میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے، جہاں RD-109 پر 6,700 کیوسک کی ضرورت کے مقابلے میں صرف 4,096 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ RD-102 پر 2,400 کیوسک کے مقابلے میں صرف 1,050 کیوسک پانی مل رہا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال پر متعلقہ حکام کو متعدد بار آگاہ کیا گیا لیکن انتظامی سطح پر کوئی مؤثر جواب نہیں دیا گیا۔
صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ سندھ کی جانب سے مسلسل کٹوتی سے صورتحال تشویشناک ہو رہی ہے اور یہ معاملہ وفاقی وزیر آبی وسائل، سندھ حکومت، IRSA اور دیگر متعلقہ فورمز کے سامنے اٹھایا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سے رابطہ کیا، جنہوں نے کٹوتی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی، تاہم اس کے باوجود زمینی سطح پر پانی کی فراہمی میں کمی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ IRSA نے بھی واضح کیا ہے کہ پانی میں کمی پنجاب کی وجہ سے نہیں بلکہ سندھ کی جانب سے کی جا رہی ہے، جو بلوچستان کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ تمام قانونی اور انتظامی راستے اختیار کرنے کے باوجود کوئی ریلیف نہیں ملا، جس کے بعد حکومت سنجیدگی سے قانونی کارروائی پر غور کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ وزیراعلیٰ سے ملاقات کر کے صورتحال سے آگاہ کریں گے اور قانونی اقدام کی منظوری طلب کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اپنے پانی کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر ممکن فورم پر اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا جائے گا۔