پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ بھارت انڈس واٹرز ٹریٹی کو یکطرفہ طور پر معطل، منسوخ یا “ان ایبینس” نہیں رکھ سکتا، اور اگر پانی کی فراہمی روکنے کی کوشش کی گئی تو پاکستان اس کا مؤثر جواب دے گا۔
اسلام آباد میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ 1960 میں عالمی بینک کی نگرانی میں طے پانے والا یہ معاہدہ باہمی رضامندی سے وجود میں آیا تھا، اس لیے اس میں کوئی بھی تبدیلی صرف دونوں فریقین کی مشترکہ رضامندی سے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ انڈس واٹرز ٹریٹی پاکستان کے 24 کروڑ سے زائد عوام کے لیے “لائف لائن” کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ ملک کی زراعت، معیشت اور روزگار کا بڑا انحصار دریائے سندھ کے پانی پر ہے۔ ان کے مطابق بھارت کا اسے یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اقدام قانونی اور اخلاقی دونوں لحاظ سے کمزور ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ پرامن مذاکرات اور معاہدے کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے، تاہم اگر پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو قومی قیادت اس کے مؤثر جواب کے لیے پرعزم ہے۔
کانفرنس میں ماہرین قانون، آبی امور کے ماہرین اور پالیسی سازوں نے شرکت کی، جس میں معاہدے کے قانونی ڈھانچے، علاقائی سلامتی اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات پر غور کیا گیا۔ پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اس معاملے کو سفارتی اور قانونی سطح پر آگے بڑھاتا رہے گا۔