31°C Sunny

بلوچستان میں دہشتگردی پر حکومت سے دوہرے معیار کا سوال

: قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور بدامنی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کا ذمہ دار صوبائی حکومت کو قرار دیا جاتا ہے تو بلوچستان کے حالات کا ذمہ دار کون ہے۔

پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عادل خان بزئی نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں سخت سیکیورٹی انتظامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اضافی اختیارات دینے کے باوجود دہشتگردی اور بدامنی ختم نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ ملک خطرناک سمت کی طرف بڑھ رہا ہے اور عوام شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

انہوں نے دفاعی وزیر خواجہ آصف کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد کی جا رہی ہے تو پھر بلوچستان میں جاری بدامنی کے لیے کس کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا، جبکہ وہاں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں ہے۔

عادل بزئی نے مزید الزام لگایا کہ ان کے ڈرائیور، گارڈ اور دیگر عملے کو بغیر کسی الزام کے اٹھایا گیا ہے اور اس معاملے پر وضاحت طلب کی۔

پی ٹی آئی کے ایک اور رکن خوشحال خان کاکڑ نے بھی بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کوئٹہ اور اطراف میں بڑی تعداد میں قائم چیک پوسٹوں کا ذکر کیا اور عوام کو درپیش مشکلات بیان کیں۔

جواب میں پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ یہ معاملات صوبائی نوعیت کے ہیں اور انہوں نے اپوزیشن ارکان کو وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے ملاقات کرانے کی پیشکش کی تاکہ مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جا سکیں۔