وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور معاہداتی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور انسانی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔
اپنے بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی اور قانونی طور پر پابند معاہدہ ہے، جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کے ساتھ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی بھی نفی کرتے ہیں۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ دریائے سندھ پاکستان کی زراعت، معیشت اور کروڑوں شہریوں کے روزگار کی بنیاد ہے، اس لیے ملک کے آبی حقوق پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قابل قبول نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی، سفارتی اور آئینی فورمز پر بھرپور انداز میں اپنا مؤقف پیش کرتا رہے گا۔
وزیراعلیٰ نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا فوری نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام اور ان پر عمل درآمد ہی خطے میں دیرپا امن اور تعاون کی ضمانت ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان حکومت قومی مفادات اور پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے اور ملک کے مفاد کے خلاف کسی بھی اقدام کی ہر سطح پر مخالفت جاری رکھے گی۔