ڈھاکہ، بنگلہ دیش میں ایران جنگ اور عالمی توانائی بحران نے ایشیائی ممالک کے فوسل فیول پر انحصار کے خطرات کو واضح کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک شدید قیمتوں کے دباؤ اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی مہنگی اسپاٹ خریداری کرنا پڑی جس پر تقریباً 88 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے، جبکہ پاکستان نے شمسی توانائی کے بڑھتے استعمال کے باعث اس بحران کے دوران اسپاٹ ایل این جی خریداری سے گریز کیا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی خصوصاً سولر انرجی کے فروغ سے فوسل فیول پر انحصار کم ہو کر 25 فیصد رہ گیا ہے، جس سے ملک کو عالمی قیمتوں کے جھٹکوں سے جزوی تحفظ حاصل ہوا ہے۔ اس کے برعکس بنگلہ دیش اب بھی بڑی حد تک درآمدی گیس اور کوئلے پر انحصار کر رہا ہے، جس کے باعث اسے توانائی بحران اور مالی دباؤ کا سامنا ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تیزی سے قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی ہی مستقبل میں ایسے بحرانوں اور قیمتوں کے جھٹکوں سے بچاؤ کا واحد مؤثر حل ہے۔