پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو روسی تیل تک رسائی کے لیے امریکہ کی جانب سے جاری 30 روزہ خصوصی لائسنس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق تکنیکی اور ریفائنری حدود کے باعث پاکستان اس سہولت سے مکمل فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہو گا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے عالمی منڈی میں خام تیل کی فراہمی پر دباؤ کم کرنے اور توانائی کے لحاظ سے کمزور ممالک کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے یہ عارضی جنرل لائسنس جاری کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی توانائی قیمتوں میں استحکام لانا اور سپلائی چین میں ممکنہ رکاوٹوں کو کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جنہیں اس رعایت سے فائدہ پہنچ سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی حد تک فائدہ اٹھانا ملک کی اندرونی تکنیکی صلاحیتوں اور ریفائنری انفراسٹرکچر پر منحصر ہوگا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں موجود ریفائنری سسٹم روسی خام تیل کی مکمل پراسیسنگ کے لیے فوری طور پر تیار نہیں، جس کی وجہ سے اس پالیسی کا عملی اثر محدود ہو سکتا ہے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عالمی توانائی منڈی میں ایک وقتی نرمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے کچھ ممالک کو سپلائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم اس کے مستقل یا طویل المدتی اثرات ابھی واضح نہیں ہیں۔
توانائی ماہرین کے مطابق اگر پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے تو اسے ریفائنری اپ گریڈیشن اور ٹیکنیکل بہتری کی ضرورت ہوگی تاکہ روسی تیل کی پراسیسنگ ممکن ہو سکے۔ بصورت دیگر یہ رعایت صرف محدود تجارتی فائدہ فراہم کر سکے گی۔