پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بدھ کے روز اردن کے دارالحکومت عمان میں ہونے والے وزارتی اجلاس میں شرکت کریں گے، جہاں القدس اور مسجد اقصیٰ کی صورتحال پر عرب و اسلامی ممالک کے درمیان مشاورت کی جائے گی۔
یہ اجلاس اردن کی میزبانی میں ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب مسجد اقصیٰ کے احاطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اسرائیلی اقدامات پر مسلم ممالک میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ اردن نے خبردار کیا ہے کہ مقدس مقام کے تاریخی اور قانونی انتظامات میں تبدیلی کی کوششیں خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتی ہیں۔
وزارت خارجہ پاکستان کے مطابق اسحاق ڈار دورے کے دوران فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت اور ان کے جائز حقوق کے لیے اسلام آباد کے مؤقف کا اعادہ کریں گے۔ ان کی ملاقاتیں اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات، وزارتی اجلاس میں شرکت اور دیگر وزرائے خارجہ سے دوطرفہ و علاقائی امور پر تبادلہ خیال پر مشتمل ہوں گی۔
پاکستان نے ہمیشہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، جبکہ اسلام آباد اسرائیلی کارروائیوں اور القدس کے مقدس مقامات کی تاریخی حیثیت کو متاثر کرنے والے اقدامات کی مذمت کرتا رہا ہے۔
مسجد اقصیٰ، جسے مسلمانوں کے لیے حرم الشریف اور یہودیوں کے لیے ٹیمپل ماؤنٹ کہا جاتا ہے، دنیا کے حساس ترین مذہبی مقامات میں شمار ہوتی ہے۔ 1967 کی جنگ کے بعد قائم انتظامات کے تحت اردن کو اسلامی مقدس مقامات کی نگرانی کا کردار حاصل ہے جبکہ اسرائیل سیکیورٹی امور کو کنٹرول کرتا ہے۔
اردن نے حالیہ اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقدس مقام کے موجودہ انتظامی نظام کو برقرار رکھنا علاقائی امن و استحکام کے لیے ضروری ہے۔ عمان اجلاس میں عرب اور اسلامی ممالک القدس کی صورتحال پر مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے کی کوشش کریں گے۔
پاکستان ماضی میں بھی اردن اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ مل کر مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت کے تحفظ اور فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے مشترکہ بیانات جاری کرتا رہا ہے۔