متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ ممکنہ کرنسی سوئپ لائن کے قیام پر مذاکرات کر رہا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کی وسعت کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بات یو اے ای کے وزیر تجارت ثانی الزیودی نے ابوظہبی میں ایک کانفرنس کے دوران کہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی مالی امداد یا بیل آؤٹ کے لیے نہیں بلکہ مضبوط معاشی روابط کے باعث ایک اعلیٰ سطحی مالیاتی تعاون ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اس طرح کی کرنسی سوئپ پالیسی صرف چند منتخب ممالک کے ساتھ رکھتا ہے، اور اگر یو اے ای اس گروپ میں شامل ہوتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم اور سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے معیار کی علامت ہوگا۔
کرنسی سوئپ لائنز مرکزی بینکوں کے درمیان ایسے مالیاتی معاہدے ہوتے ہیں جن کے تحت دونوں ممالک اپنی کرنسیوں کو براہ راست تبادلہ کر سکتے ہیں، جس سے غیر ملکی زرمبادلہ مارکیٹ پر انحصار کم ہوتا ہے اور تجارتی لین دین آسان ہو جاتا ہے۔
اس وقت امریکی فیڈرل ریزرو کے پاس صرف پانچ مرکزی بینکوں کے ساتھ مستقل سوئپ لائنز موجود ہیں جن میں کینیڈا، جاپان، یورپی مرکزی بینک، برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔
یو اے ای کا یہ اقدام خلیجی ملک کی عالمی مالیاتی نظام میں بڑھتی ہوئی اہمیت اور امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک اقتصادی تعلقات کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔