بلوچستان کابینہ نے گوادر میں 14 ارب ڈالر مالیت کے سہ ملکی گیس ٹرمینل منصوبے کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے، جس میں ترکمانستان کی جانب سے سرمایہ کاری متوقع ہے، جبکہ منصوبے میں صوبے کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے
یہ منظوری وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت کوئٹہ میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں دی گئی۔ صوبائی وزرا نے بتایا کہ مجوزہ گیس ٹرمینل سے گوادر، پنجگور، چاغی اور واشک اضلاع کو قدرتی گیس کی فراہمی ممکن ہوگی
کابینہ نے بورڈ آف ریونیو کے سینئر رکن کو ہدایت کی کہ منصوبے میں بلوچستان کے مفادات اور حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے تاکہ صوبے کو اس اہم توانائی منصوبے سے بھرپور فائدہ حاصل ہو
اجلاس میں 26 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا، جس میں دہشت گردی کے خاتمے، عوامی فلاح، تعلیم، گورننس، امن و امان اور ترقیاتی اقدامات سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے
صوبائی وزرا میر ظہور بلیدی اور میر ضیاء اللہ لانگو نے بتایا کہ کابینہ نے جنوبی بلوچستان پیکیج کے تحت سات منصوبوں کی سیکیورٹی کے لیے 858 ملین روپے جاری کرنے کی منظوری بھی دی
کابینہ نے ورکرز ویلفیئر بورڈ اسکالرشپ پروگرام فیز تھری کے تحت 300 بچوں کے لیے وظائف کی منظوری دی، جبکہ حکام کے مطابق اس منصوبے سے پہلے ہی 781 بچے مستفید ہو چکے ہیں
اجلاس میں تعمیر نو کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے، چائلڈ پروٹیکشن ہیلپ لائن کے قیام، بلوچستان چائلڈ پروٹیکشن رولز 2026 اور کیڈٹ کالجز ایکٹ میں ترامیم کی بھی منظوری دی گئی
کابینہ نے پارکو کوسٹل ریفائنری منصوبے کے لیے این او سی کی تجدید کی منظوری دی، تاہم اسے موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق زمین کے واجبات کی ادائیگی اور دو سال کے اندر سرمایہ کاری شروع کرنے سے مشروط کیا گیا
اس کے علاوہ گوادر کے کلانچ اور نیو ٹاؤن کے رہائشیوں کو ملکیتی حقوق دینے، سبی ہرنائی روڈ منصوبے کی تکمیل اور صوبے میں سیکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کی منظوری بھی دی گئی
گوادر گیس ٹرمینل منصوبہ بلوچستان میں توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے صوبے میں گیس فراہمی، صنعتی ترقی اور علاقائی رابطوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔