پاکستان کی وزارت تجارت نے کہا ہے کہ وہ جنوبی کوریا کی سرکاری توانائی کمپنی KOEN کی جانب سے پیش کیے گئے تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کے ہائیڈرو پاور منصوبے کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ توانائی کے شعبے میں مجموعی ضروریات اور مستقبل کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی پر نظرثانی جاری ہے۔
یہ منصوبہ پاکستان کے شمال مغربی ضلع سوات میں دو بڑے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس پر مشتمل ہے، جن میں 229 میگاواٹ کا اسریت کیدام منصوبہ اور 238 میگاواٹ کا کالام اسریت منصوبہ شامل ہے۔ وزارت تجارت کے مطابق دونوں منصوبوں نے فزیبلٹی اسٹڈیز، ماحولیاتی جائزے اور ریگولیٹری منظوریوں کے اہم مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ کمپنی نے ان منصوبوں پر تقریباً 25 ملین ڈالر پہلے ہی خرچ کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق KOEN کمپنی نے منصوبوں کے لیے تقریباً ایک ارب ڈالر کی فنانسنگ (قرض اور سرمایہ کاری) بھی حاصل کر لی ہے، تاہم اس وقت یہ منصوبے ٹیرف کے تعین اور پاکستان کے ڈرافٹ انڈیکیٹیو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (IGCEP) 2025-35 میں شمولیت کے منتظر ہیں۔ حکومتی سطح پر توانائی کی طلب اور رسد کے توازن کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے، کیونکہ ملک کو ماضی میں اضافی بجلی پیداوار اور بلند لاگت جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔
وزارت تجارت کے مطابق KOEN نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ منصوبوں کے ٹیرف کا تعین تاخیر کا شکار ہے اور ان کی حتمی منظوری کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ اس کے کئی تکنیکی اور انتظامی مراحل مکمل ہو چکے ہیں جن میں فزیبلٹی، ماحولیاتی منظوری، زمین کے معاملات، IRSA کی منظوری اور گرڈ کنکشن اسٹڈیز شامل ہیں۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کورین وفد سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، خاص طور پر قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی کی مستقبل کی ضروریات کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہے، تاہم صنعتی ترقی، ڈیٹا سینٹرز اور گرین انرجی کے منصوبوں کی وجہ سے مستقبل میں بجلی کی طلب میں اضافہ متوقع ہے۔
وزارت کے مطابق حکومت اور متعلقہ ادارے KOEN کے تحفظات دور کرنے اور منصوبے کو قانونی و پالیسی فریم ورک کے مطابق آگے بڑھانے کے لیے رابطے میں ہیں۔
