33°C Sunny

پاکستان نئی صنعتی پالیسی کو حتمی شکل دینے میں مصروف – چین، ترکیہ اور وسطی ایشیائی ممالک سے سرمایہ کاری متوجہ کرنے کا منصوبہ

پاکستان حکومت نئی جامع صنعتی پالیسی کو حتمی شکل دے رہی ہے جس کا مقصد ملکی مینوفیکچرنگ شعبے کو مضبوط بنانا، برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دینا اور چین، ترکیہ اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے نئی سرمایہ کاری حاصل کرنا ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ICCI) میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت ایسی اصلاحات متعارف کرا رہی ہے جن کے ذریعے پاکستان کو ایک مضبوط صنعتی اور برآمدی مرکز کے طور پر ترقی دی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ نئی صنعتی پالیسی میں کاروبار کرنے کے عمل کو آسان بنانے، ضابطہ کار میں بہتری، ٹیرف نظام کو مؤثر بنانے اور صنعتوں کی مسابقت بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق حالیہ سیاسی اور معاشی استحکام نے پاکستان کی معیشت پر عالمی اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ پالیسی کا اہم مقصد چینی سرمایہ کاروں سمیت وسطی ایشیائی ممالک کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں راغب کرنا ہے تاکہ صنعتی تعاون کو وسعت دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو خطے میں مینوفیکچرنگ اور برآمدات کے اہم مرکز کے طور پر ابھارنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ آٹو موبائل اور الیکٹرک وہیکل پالیسی سمیت کئی نئے اقدامات پر کام جاری ہے، جبکہ قابل تجدید توانائی، بیٹری مینوفیکچرنگ، الیکٹرانکس اور فارماسیوٹیکل شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) اور برآمد کنندگان کو خصوصی سہولتیں فراہم کی جائیں گی، جن میں آسان قرضوں تک رسائی، ایکسپورٹ ری فنانسنگ، طویل مدتی مالیاتی منصوبے اور ٹیکس مراعات شامل ہیں۔

ہارون اختر خان نے ترکیہ میں 13 اگست کو ہونے والی بزنس کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے وژن کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

انہوں نے ترکیہ کو پاکستان کا قریبی دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے سیاسی تعلقات کو معاشی تعاون، مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی منتقلی اور کاروباری روابط کے ذریعے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا کہ استنبول کانفرنس کا مقصد پاکستان کی معاشی صلاحیت کو اجاگر کرنا، غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنا، مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینا اور نئی برآمدی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کانفرنس میں رئیل اسٹیٹ، تعمیرات، صحت، فارماسیوٹیکل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، فوڈ پراسیسنگ، ٹیکسٹائل، سیاحت، انجینئرنگ اور لاجسٹکس سمیت مختلف شعبوں کو نمایاں کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق نئی صنعتی پالیسی اور بین الاقوامی کاروباری روابط کے ذریعے پاکستان کا مقصد صنعتی پیداوار میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ملک کو علاقائی تجارت و سرمایہ کاری کا اہم مرکز بنانا ہے۔