29°C Sunny

گوادر پورٹ پر ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ – بنگلہ دیشی جہاز کی آمد سے عالمی بحری اعتماد مزید مضبوط

علاقائی بحری صورتحال اور جاری کشیدگی کے باوجود گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جہاں ایک اور ٹرانس شپمنٹ جہاز نے بندرگاہ پر لنگر انداز ہو کر کارگو ہینڈلنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت گوادر پورٹ کی بڑھتی ہوئی آپریشنل صلاحیت، عالمی شپنگ کمپنیوں کے اعتماد اور پاکستان کے بحری شعبے کی ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کے پرچم بردار جہاز ایم وی جہان برادرز ٹو (M/V JAHAN BROTHERS II) 18 جولائی کو گوادر پورٹ پہنچا۔ جہاز سنگاپور سے سفر کرتے ہوئے 53 ہزار 64.660 میٹرک ٹن پرائم اسٹیل بلیٹس لے کر آیا، جو متحدہ عرب امارات کی الحمریہ بندرگاہ منتقل کیے جائیں گے۔ کارگو کو پہلے گوادر پورٹ پر عارضی طور پر اتارا اور ذخیرہ کیا جائے گا، جس کے بعد اسے دوسرے جہاز کے ذریعے متحدہ عرب امارات روانہ کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری نے کہا کہ موجودہ علاقائی بحری صورتحال کے باوجود گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں کا تسلسل پاکستان کی بڑھتی ہوئی بندرگاہی صلاحیتوں اور بحری شعبے پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانس شپمنٹ آپریشنز میں اضافہ گوادر کے اسٹریٹجک محل وقوع اور خطے کے لیے متبادل تجارتی گیٹ وے کے طور پر اس کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پاکستان گوادر پورٹ کے انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے، عالمی شپنگ لائنز کو سہولیات فراہم کرنے اور علاقائی و بین الاقوامی تجارت کے بلاتعطل فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نورالحق بلوچ نے کہا کہ موجودہ بحری حالات کے باوجود بندرگاہی اور تجارتی سرگرمیوں کا کامیابی سے جاری رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ گوادر ایک محفوظ، قابل اعتماد اور مؤثر تجارتی مرکز کے طور پر اپنی شناخت قائم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب ٹرانس شپمنٹ آپریشنز سے عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مزید بڑھ رہا ہے اور گوادر خطے کے لیے ایک اہم متبادل تجارتی راستے کے طور پر مضبوط ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گوادر پورٹ پر کامیاب ٹرانس شپمنٹ آپریشنز اس کی بڑھتی ہوئی عملی استعداد اور عالمی بحری برادری کے اعتماد کی علامت ہیں، جبکہ یہ بندرگاہ پاکستان کو علاقائی تجارت، لاجسٹکس اور بحری رابطوں کے اہم مرکز کے طور پر مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔