34°C Cloudy

این ایچ اے کو بلوچستان میں شاہراہ آمدن بڑھانے کیلئے کاروباری تعاون درکار

بلوچستان، پاکستان میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو شاہراہوں کی دیکھ بھال کے اخراجات اور آمدن میں بڑے فرق کا سامنا ہے، جہاں سالانہ 15 ارب روپے خرچ کے مقابلے میں صرف تقریباً 20 کروڑ روپے آمدن حاصل ہو رہی ہے۔

حکام کے مطابق بلوچستان میں چار ہزار کلومیٹر سے زائد قومی شاہراہوں کا انتظام این ایچ اے کے پاس ہے جبکہ ملک بھر میں ادارے کی مجموعی آمدن تقریباً 130 ارب روپے ہے، تاہم صوبے کا حصہ نہایت کم ہے۔ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کاروباری برادری اور چیمبرز آف کامرس سے تعاون طلب کیا گیا ہے۔

کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اجلاس میں تاجروں نے جاری منصوبوں کا خیرمقدم کیا مگر بہتر حالت میں موجود سڑکوں کو توڑنے، ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر اور عوام پر اضافی بوجھ پر تشویش کا اظہار کیا۔ کوئٹہ چمن شاہراہ پر حادثات اور کچھلاک تا مستونگ بائی پاس منصوبے میں تاخیر بھی زیر بحث آئی۔

این ایچ اے حکام نے بتایا کہ ادارہ اپنی آمدن سے ہی اخراجات پورے کرتا ہے اور حکومت سے براہ راست فنڈنگ نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کاروباری سرگرمیوں کا بڑا حصہ شاہراہوں سے منسلک ہے مگر ٹول پلازوں اور این او سیز سے حاصل آمدن ناکافی ہے۔

حکام کے مطابق قلعہ سیف اللہ، رکھنی، دالبندین، نوکنڈی اور کوسٹل ہائی وے پر ٹول پلازے فعال کیے گئے ہیں جبکہ آمدن بڑھانے کیلئے مزید اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کاروباری برادری سے اپیل کی کہ وہ این او سیز کے حصول میں تعاون کریں تاکہ شاہراہوں کی بہتری اور مالی استحکام ممکن بنایا جا سکے۔